مجاہدۂ نفس
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - خواہشات نفس کی مخالفت، نفس کشی۔ "رفتہ رفتہ مجاہدۂ نفس کی یہ ریاضتیں سخت سے سخت ہوتی چلی گئیں۔" ( ١٩٧٧ء، من کے تار، ٢٨ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ اسم 'مجاہدہ' کے آخر میں ہمزہ زائد لگا کر کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'نفس' لگانے سے مرکب اضافی 'مجاہدۂ نفس' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٣٩ء کو "آئین اکبری" کے ترجمہ میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خواہشات نفس کی مخالفت، نفس کشی۔ "رفتہ رفتہ مجاہدۂ نفس کی یہ ریاضتیں سخت سے سخت ہوتی چلی گئیں۔" ( ١٩٧٧ء، من کے تار، ٢٨ )
جنس: مذکر